Voice of Alleey

خدا جانے مجھے کیا ہو گیا ہے

May 27, 2009 · 6 Comments

خدا جانے مجھے کیا ہو گیا ہے
وہی جانے مجھے کیا ہو گیا ہے

ہوا ہوں اسطرح وحشت کا عادی
کہ ہر احساس وحشت ہو گیا ہے

ابلتے ہیں جو چشم تر میں آنسو
کہیں اندر کوئی آتش فشاں ہے

ہوا عرصہ، میں، اور میری محبت
خفا اس سے ہوں وہ مجھسے خفا ہے

کچھھ اس انداز سے الٹا ہے منظر
رگوں میں خوں بھی الٹا چل رہا ہے

میں وہ دریا ہوں جس کا ہر کنارہ
تہہ دریا میں بھی تا حد جدا ہے

کبھی ہیں ہر طرف مانوس چہرے
ہر اک چہرہ کبھی ناآشنا ہے

علی مشکل ہے اب دل کا مچلنا
یہ بہلا اتنا کہ اب سو گیا ہے

Categories: general · اردو
Tagged: ,

6 responses so far ↓

Leave a Comment